نئی دہلی،22 جولائی (یو این آئی) ملک میں ماب لنچنگ کے بڑھتے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے وکیل اوردہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹری سرفراز احمد صدیقی نے کہاکہ الور میں پیش آنے والا ماب لنچنگ کا سانحہ سپریم کورٹ کی توہین اور اس کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہاکہ ابھی 17جولائی کو ہی سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ نے گؤ رکشا کے نام پر ماب لنچنگ تشددکو علیحدہ جرم قرار دینے اور اس کے لئے مناسب سزاکا التزام کرنے کے لئے مرکزی حکومت سے سفارش کی ہے۔چیف جسٹس دیپک مشرا‘ جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بنچ نے گؤ رکشا کے نام پرماب لنچنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لئے کئی ہدایات جاری کیں اور ان پر عمل کرنے کے لئے چار ہفتہ کا وقت دیا۔
انہوں نے افسوسناک بات یہ ہے کہ جس دن سپریم کورٹ نے یہ ہدایت دی تھی اسی دن بی جے پی حکمرانی والی جھارکھنڈ ریاست میں مشہور سماجی کارکن اور آریہ سماج کے بزرگ لیڈر 80سالہ سوامی اگنی ویش پر مبینہ طور پر بی جے پی یوا جنتا مورچہ اور اے بی وی پی کے لوگوں نے حملہ کرکے ماب لنچنگ کی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ماب لنچنگ کے معاملے میں حکومت کا رویہ سخت ہونے کے بجائے ہمدردانہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس کا ثبوت ہے کہ ماب لنچنگ کے ملزموں کو مرکزی وزیر مٹھائی کھلاکر اور پھولوں کا ہار پہناکر ان کا استقبال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ گؤ رکشک کس قدر بے خوف ہیں انہیں سپریم کورٹ کا بھی کوئی احترام نہیں ہے اورالور میں گؤ رکشکوں نے کولے گاوں کے اکبر خاں کو رام گڑھ میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا۔ انہوں نے پولیس کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پولیس کو اکبر خاں کو فوراً ہسپتال لے جانے کے بجائے اسے تھانے لے کئی۔ انہوں نے کہاکہ صرف الور میں ہی ماب لنچنگ کا یہ چوتھا معاملہ ہے۔
مسٹر صدیقی جو آل انڈیا مسلم ایڈووکیٹس فورم فور جسٹس کے سکریٹری جنرل بھی ہیں‘ نے کہا کہ ماب لنچنگ کے واقعات میں 2014کے بعد 97فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور 61ماب لنچنگ کے واقعات میں35 واقعات صرف بی جے پی حکمرا نی والی ریاست میں ہوئے ہیں۔اس طرح کے واقعات میں 24مسلمان مارے گئے ہیں جب کہ 124 زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ماب لنچنگ کے واقعات پر روک لگانے کے بجائے مرکزی وزیر اس کا موازنہ 1984کے واقعات کر رہے ہیں جو بہت ہی شرمناک ہے۔